ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اڈانی معاملے پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ! اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی کے درمیان دونوں ایوانوں کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی

اڈانی معاملے پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ! اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی کے درمیان دونوں ایوانوں کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی

Mon, 06 Feb 2023 21:33:14    S.O. News Service

نئی دہلی،6؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) اڈانی گروپ کے بحران پر پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا شور شرابہ جاری ہے۔ آج بھی اپوزیشن اڈانی معاملے پر جے پی سی جانچ کے مطالبہ پر اٹل رہی۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی شروع کر دی جس کے بعد اسپیکر کو دونوں ایوانوں کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔

قبل ازیں، اپوزیشن نے اڈانی معاملے پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) یا سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کرنے کے لیے آج صبح ایک میٹنگ کی، جس میں حکومت کی خاموشی پر گاندھی مجسمہ کے سامنے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے قبل احتجاج کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں گاندھی مجسمہ کے سامنے احتجاج کیا۔ اس دوران اراکین اسمبلی نے حکومت مخالف نعرے لگائے۔

احتجاج کے دوران راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ ہم اڈانی گروپ کے بحران پر پارلیمنٹ میں دیئے گئے نوٹس پر بحث کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم تفصیلی بحث کے لیے تیار ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسے پہلے اٹھایا جائے۔ صدر کے خطاب پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہم اسے اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن پہلی ترجیح یہ ہے کہ پی ایم مودی اس معاملے پر جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ یہ معاملہ نہ اٹھایا جائے، بات نہ کی جائے۔ وہ کسی نہ کسی طرح اس سے بچنا چاہتے ہیں اور اسے ریکارڈ پر نہیں لانا چاہتے۔

دوسری طرف کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے کہا کہ ہم اڈانی معاملے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے تحقیقات چاہتے ہیں اور مرکزی حکومت بھی اڈانی معاملے پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حکومت سب کچھ چھپانا چاہتی ہے اور اب ان کو بے نقاب کیا جا رہا ہے۔

آر جے ڈی ایم پی منوج جھا نے کہا کہ لوگ پریشان ہیں لیکن حکومت اڈانی معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اڈانی دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ ملک پر حملہ ہے، لیکن کیسے؟ ہم اس کی جے پی سی انکوائری چاہتے ہیں۔


Share: